:
Breaking News

Nepal Flood: نیپال میں سیلاب کے 14 دن بعد بھی راحت کاری جاری، ہائیڈرو پاور سرنگوں میں پھنسے 121 کارکنوں پر توجہ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | Nepal Flood | نیپال میں سیلاب اور زمینی تودے کھسکنے کے بعد راحت اور بچاؤ مہم جاری ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کو محفوظ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نیپال، 9 ستمبر، Alam Ki Khabar۔ نیپال میں شدید سیلاب اور زمینی تودے کھسکنے سے ہوئی تباہی کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود راحت اور بچاؤ کا کام مسلسل جاری ہے۔ اب امدادی ٹیموں کی سب سے بڑی توجہ ان ہائیڈرو پاور منصوبوں کی زیرزمین سرنگوں پر مرکوز ہے، جہاں درجنوں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق تین ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں تقریباً 121 کارکن پھنسے ہو سکتے ہیں۔ امدادی ٹیمیں سرنگوں کے اندر آکسیجن پہنچانے کے لیے پائپ کا استعمال کر رہی ہیں۔ بچاؤ ٹیموں کے لیے سب سے بڑا مقصد سرنگوں میں موجود کارکنوں تک محفوظ طریقے سے پہنچنا اور انہیں باہر نکالنا ہے۔

11 ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر

سیلاب اور زمینی تودے کھسکنے سے نیپال کے کئی اضلاع میں بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نو اضلاع میں 11 ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

رسوا ضلع میں واقع اپر ترشولی 3A اور 3B منصوبے بھی قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں سے وابستہ سرنگوں میں کارکنوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات نے بچاؤ مہم کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

سرنگوں تک پہنچنے کے راستے میں پانی، ملبہ اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس کے باوجود امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائی میں مصروف ہیں۔

1357 لاشیں برآمد، ہزاروں افراد لاپتہ

نیپال میں سیلاب اور زمینی تودے کھسکنے سے ہونے والی تباہی کا دائرہ اب بھی وسیع ہے۔ اب تک 1,357 لاشیں برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ 5,326 افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

راحت اور بچاؤ ٹیموں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک 13,583 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے۔

چتوان ضلع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں سے 363 لاشیں برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب تبت کے علاقے میں بھی سیلاب اور ملبے سے 43 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

169 ہندوستانی شہری محفوظ نکالے گئے

اس قدرتی آفت میں ہندوستانی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق نیپال سے اب تک 169 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ نکالا جا چکا ہے۔

تاہم 275 ہندوستانی شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان میں تبت کے علاقے میں لاپتہ 49 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔

ہندوستان، نیپال اور چین میں قائم کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں، تاکہ متاثرہ ہندوستانی شہریوں اور ان کے اہل خانہ تک ضروری معلومات پہنچائی جا سکیں۔

95 ٹن امدادی سامان نیپال بھیجا گیا

ہندوستان نے نیپال میں جاری راحت کاری کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اب تک سات طیاروں کے ذریعے تقریباً 95 ٹن امدادی سامان نیپال پہنچایا جا چکا ہے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق نیپال کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے لیے ہندوستانی فورینزک ماہرین بھی کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کھٹمنڈو کی دو لیبارٹریوں میں اب تک تقریباً 1,200 ڈی این اے نمونے جمع کیے جا چکے ہیں۔

ان نمونوں کے ذریعے نامعلوم لاشوں کی شناخت اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ تک درست معلومات پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سڑکیں اور پل تباہ، رابطہ بحال کرنا بڑا چیلنج

سیلاب نے نیپال کے سڑک اور پل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رسوا اور چتوان اضلاع میں 41 پل بہہ گئے، جبکہ چار دیگر پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

کئی اہم سڑکیں بھی سیلاب اور زمینی تودے کھسکنے کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچانا اور بچاؤ ٹیموں کو دور دراز مقامات تک لے جانا مشکل ہوگیا ہے۔

نیپال کے محکمہ سڑک کے مطابق تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو پر تقریباً 50 ارب نیپالی روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

بیلی برج کے ذریعے رابطہ بحال کرنے کی کوشش

متاثرہ علاقوں کے ساتھ سڑک رابطہ بحال کرنے کے لیے بیلی برج نصب کیے جا رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 48 میٹر طویل 11 بیلی برج قائم کیے جا چکے ہیں۔

چین کی مدد سے بھی دو بیلی برج نصب کیے گئے ہیں۔ ہندوستان نے بھی نیپال کو بیلی برج فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

تاہم متاثرہ علاقوں تک پلوں اور تعمیراتی سامان کو پہنچانا خود ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ کئی مقامات پر سڑکیں مکمل طور پر بہہ جانے کے باعث بھاری مشینری اور امدادی سامان کی نقل و حمل انتہائی مشکل ہے۔

سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کی زندگی اولین ترجیح

نیپال میں جاری راحت اور بچاؤ مہم اب انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طرف ملبے میں دبے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے، تو دوسری جانب متاثرین کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان تمام کوششوں کے درمیان ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کو محفوظ باہر نکالنا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ سرنگوں میں آکسیجن پہنچانے سے امید برقرار ہے، لیکن طویل عرصے سے زیرزمین پھنسے لوگوں تک پہنچنے کے لیے جدید تکنیکی وسائل اور انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔

اس قدرتی آفت نے نیپال میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سڑکوں، پلوں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تباہی کا اثر ملک کی معیشت اور عام زندگی پر طویل عرصے تک پڑ سکتا ہے۔

فی الحال امدادی ایجنسیوں کی سب سے بڑی ترجیح سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کو بچانا، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں میں سڑک رابطہ بحال کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

نیپال سیلاب: تباہی کے بعد بہار کی سرحدی ندیوں میں پانی کی سطح پر نگرانی

Flood Alert: نیپال میں شدید بارش اور سیلاب کے درمیان بہار میں نگرانی سخت

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ قدرتی آفت کے بعد صرف لوگوں کو محفوظ نکالنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور مواصلاتی نظام کو جلد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔

ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کا معاملہ اس آفت کی سنگینی کو مزید ظاہر کرتا ہے۔ سرنگوں میں آکسیجن کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ امدادی ٹیموں کا محفوظ طریقے سے اندر تک پہنچنا بھی اہم ہے۔

ہندوستان کی جانب سے امدادی سامان بھیجنا، ہندوستانی شہریوں کو محفوظ نکالنا اور فورینزک ماہرین کی مدد فراہم کرنا انسانی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔

مستقبل میں ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے نیپال کو اپنے Disaster Management System اور بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہوگی۔

فوری طور پر سب سے اہم کام سرنگوں میں پھنسے افراد کو بچانا، لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر نو بھی طویل مدتی ترجیح بننی چاہیے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *